A new life ….




A new life …., originally uploaded by A for [pine]Apple.

Advertisements

About jugnoo

I am Jugnoo. Jugnoo means in our local language " an insect who lightens at night" so i think i am not an insect but a person who is trying to spread some light by sharing of knowledge & information through my blog. So this is me "Jugnoo"
This entry was posted in Pakistani Photographers/ Pakistani Pictures. Bookmark the permalink.

One Response to A new life ….

  1. FSD PU says:

    رحمٰن نے

    اپنے محبوب کو قرآن سکھایا (ف۲)

    انسانیت کی جان محمّد کو پیدا کیا
    ما کان وما یکون کا بیان انہیں سکھایا (ف۳)
    سورج اور چاند حساب سے ہیں (ف۴)
    اور سبزے اور پیڑ سجدہ کرتے ہیں (ف۵)
    اور آسمان کو اللّٰہ نے بلند کیا (ف۶) اور ترازو رکھی (ف۷)
    کہ تراز میں بے اعتدالی نہ کرو (ف۸)
    اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ
    اور زمین رکھی مخلوق کے لئے (ف۹)
    اس میں میوے اور غلاف والی کھجوریں (ف۱۰)
    اور بھس کے ساتھ اناج (ف۱۱) اور خوشبو کے پھول ۔
    تو اے جن و انس تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے (ف۱۲)
    اس نے آدمی کو بنایا بجتی مٹی سے جیسے ٹھیکری (ف۱۳)
    اور جن کو پیدا فرمایا آ گ کے لوکے سے (ف۱۴)
    تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    دونوں پورب کا رب اور دونوں پچھم کا رب (ف۱۵)
    تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    اس نے دو سمندر بہائے (ف۱۶) کہ دیکھنے میں معلوم ہوں ملے ہوئے (ف۱۷)
    اور ہے ان میں روک (ف۱۸) کہ ایک دوسرے پر بڑھ نہیں سکتا (ف۱۹)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    ان میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    اور اسی کی ہیں وہ چلنے والیاں کہ دریا میں اٹھی ہوئی ہیں جیسے پہاڑ (ف۲۰)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے (ف۲۱)
    اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا (ف۲۲)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    اسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۲۳) اسے ہر دن ایک کام ہے (ف۲۴)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    جلد سب کام نبٹا کر ہم تمہارے حساب کا قصد فرماتے ہیں اے دونوں بھاری گروہ (ف۲۵)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    اے جن و انسان کے گروہ اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ جہاں نکل کر جاؤ گے اسی کی سلطنت ہے (ف۲۶)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    تم پر (ف۲۷) چھوڑی جائے گی بے دھویں کی آ گ کی لپٹ اور بے لپٹ کا کالا دھواں (ف۲۸) تو پھر بدلا نہ لے سکو گے (ف۲۹)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    پھر جب آسمان پھٹ جائے گا تو گلاب کے پھول سا ہوجائے گا (ف۳۰) جیسے سرخ نری
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    تو اس دن (ف۳۱) گنہگار کے گناہ کی پوچھ نہ ہوگی کسی آدمی اور جن سے (ف۳۲)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    مجرم اپنے چہرے سے پہچانے جائیں گے (ف۳۳) تو ماتھا اور پاؤں پکڑ کر جہنّم میں ڈالے جائیں گے (ف۳۴)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے (ف۳۵)
    یہ ہے وہ جہنّم جسے مجرم جھٹلاتے ہیں
    پھیرے کریں گے اس میں اور انتہا کے جلتے کھولتے پانی میں (ف۳۶)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے (ف۳۷) اس کے لئے دو جنّتیں ہیں (ف۳۸)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    بہت سی ڈالوں والیاں (ف۳۹)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    ان میں دو چشمے بہتے ہیں (ف۴۰)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    ان میں ہر میوہ دو دو قسم کا
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    ویز ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے جن کا اَستر قنادیز کا (ف۴۱) اور دونوں کے میوے اتنے جھکے ہوئے کہ نیچے سے چُن لو (ف۴۲)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    ان بچھونوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں (ف۴۳) ان سے پہلے انہیں نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جن نے
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    گویا وہ لعل اور مونگا ہیں (ف۴۴)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی (ف۴۵)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    اور ان کے سوا دو جنّتیں اور ہیں (ف۴۶)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    نہایت سبزی سے سیاہی کی جھلک دے رہی ہیں
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    ان میں دو چشمے ہیں چھلکتے ہوئے
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    ان میں عورتیں ہیں عادت کی نیک صورت کی اچھی
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین (ف۴۷)
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    ان سے پہلے انہیں ہاتھ نہ لگایا کسی آدمی اور نہ کسی جن نے
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے (ف۴۸)
    تکیہ لگائے ہوئے سبز بچھونوں اور منقّش خوبصورت چاندنیوں پر
    تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
    بڑی برکت والا ہے تمہارے رب کا نام جو عظمت اور بزرگی والا

    03006614233

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s